14 ستمبر 2012 - 19:30

رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز امریکی فلم کے خلاف عالم اسلام میں وسیع احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ابنا: اس سلسلے میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفیر اور تین ديگر امریکی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ یمن کے دارالحکومت صنعا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بعض یمنی نوجوان امریکی سفارت خانے کی دیوار پر چڑھ گئے اور انہوں نے وہاں ایک جھنڈا لہرادیا جس پر اسم مبارک " رسول اللہ "  لکھا ہوا تھا۔پولیس نے مظاہرین پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین افراد مارے گئے اور دسیوں زخمی ہوگئے۔مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں بھی مصری عوام نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کرکے امریکی جھنڈے کو آگ لگا دی۔مصری سیکورٹی فورس نے مظاہرین پر حملہ کیا اور ڈھائي سو افراد کو زخمی کردیا۔سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں بھی لوگوں نے توہین آمیز امریکی فلم کے خلاف مظاہرہ کیا اور اپنے ملک سے امریکی سفیر کو نکالنے کا مطالبہ کیا۔لبنان اور فلسطین میں بھی لوگوں نے وسیع پیمانے پر مظاہرے کرکے امریکہ میں اسلام مخلاف توہین آمیز فلم کی نمائش کی مذمت کی اور عالم اسلام ، خاص طور سے ، او آئي سی اور عرب ليگ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مذموم اقدام کی مذمت کریں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق عراق ، تیونس ، سوڈان اور انڈونیشیا میں بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی پر مبنی امریکی فلم کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج کیا ہے۔ادھریہاں دارالحکومت تہران میں بھی ایرانی شہریوں نے توہین آمیز فلم کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا ہے۔تہران میں مظاہرین نے امریکہ میں اس فلم کی نمائش کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کرنے والوں پر مقدمہ چلانے اور ان کو قرار واقعی سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔ادھر چین کی حکمراں جماعت کے ترجمان اخبار نے لکھا ہے کہ حالیہ برسوں میں امریکیوں نے مسلمانوں کے خلاف بہت زیادہ توہین آمیز اقدامات کئے ہیں اور قرآن کو جلائے جانے کا واقعہ دنیا بھر میں عوامی احتجاجی سلسلہ کا سبب بنا ہے جبکہ سربیہ کے ایک محقق زوران میلوشویچ نے توہین آمیز امریکی فلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلم بنانے والوں نے تمام ادیان کے ماننے والوں کے جذبات کو بھڑکادیاہے اور امپیریلزم اور صیہونزم  نے اپنے اس نفرت انگیز اقدام سے سارے ادیان کی توہین کی ہے نیز دنیا کے تمام دینی رہنما پیغمبر اسلام کی شان میں کی گئی گستاخی کی مذمت کریں۔واضح ر ہے کہ " مسلمانوں کی بے گناہی یا انوسینس آف مسلمس " نامی توہین آمیز فلم بنانے والا شخص سام باسل ہے جس نے ایسو شی ایٹڈ پریس کو دئے گئے انٹرویو میں خود کو ایک امریکی اسرائيلی بتایا ہے۔اس صیہونی کا کہنا ہے کہ مذکورہ فلم بنانے کے لئے اس نے سو یہودیوں سے پچاس لاکھ ڈالر حاصل کئے ہیں۔دریں اثنا باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دینی مقدسات کی بے حرمتی کے نتیجہ میں مشرق وسطی میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے حملے وہائٹ ہاؤس کے لئے واضح پیغامات کے حامل ہیں کیونکہ اس علاقے کے لوگ اسلام کی توہین پر مبنی ایک امریکی کے اقدام کے لئے صرف اس شخص کو ذمہ دار قرار نہیں دیتے بلکہ اس نظام کو ذمہ دار سمجھتے ہیں جس نے مغرب میں اسلام مخالف سوچ اور فکر کو ہوا دی ہے۔   ...../169